شروع روز سے ہی طبقاتی تعلیم کے خلاف ہیں۔ کیونکہ ایک طبقہ تو اعلی تعلیم حاصل کرے اور دوسرا طبقہ انتہائی فرسودہ تعلیم حاصل کرے۔ معاشرے کے اندر جب ایک تعلیم کی سطح بنا دی جائے تو وہ تعلیم ہمیشہ کلاس پیدا کرے گئی۔ ایسی ریاست کبھی متوازن نہیں ہوگئی۔
ہمارا معیار تعلیم انتہائی فرسودہ ہوچکا ھے۔ طریقہ تدریس اور اسکے نصاب دونوں بہت فرسودہ ہو چکلے ہیں۔ محکمہ تعلیم موجود ھے مگر اس میں بہتری اور اپ گریٹ نہیں کیا جا رہا۔
لوگوں کا رحجان زیادہ تر پرائیوٹ اداروں کی جانب ھوچکا ھے۔ اب صرف وہ غریب سرکاری ادارے کے اندر پڑھ رہا ھے جس کی ولی عہد کی زندگئی غربت کی لیکر کی نیچے بسر ہو رہی ہے۔ یہ طبقہ کبھی لڑ کر سرکاری سطح پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا ہے۔
پرائیوٹ اسکولوں کے اندر بھی انسانوں کے بجائے انسانی کلاسسز تیار کی جاتی ہیں۔ آج کے دور کے اندر پرائیوٹ ادارے ہر چوک میں تعلیم کے نام پر دکان کھول کے بیٹھے ہیں۔
میں آج ایک پرائیوٹ سکول کی نمود نمائش کرو گا اور کیوں کرو گا اسکے میرے ذاتی مقاصد بھی جڑے ہیں لیکن ذاتی مقاصد کے علاوہ میں اس پرائیوٹ سکول سے بہت متاثر ہوا۔
میں نے پہلی دفعہ معیار تعلیم اور معیار تدریس دیکھا۔
اس سکول کے اندر بچوں کو کیا کیسے پڑھایا سیکھایا جاتا ہے۔ یہ چیزیں میں نے پہلی بار دیکھی۔
سب سے پہلے اگر اس سکول کی پڑھی جانے والی کتابوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو ذاتی تجربہ بیان کرو۔
آکسویڈ کا ہی نصاب ھے مگر آکسویڈ کے نصاب اور آفاق کے نصاب میں مزید بعذات خود ادارے کی ہیڈ مس نے کچھ مضمون خود سے ایڈ کیے ہیں۔ کشمیری کلچر، کشمیری ہیروز، اسکے ساتھ دوسرے سال ایک ایک کتاب کے اندر ترمیم کی جاتی ہے اور کچھ نئی چیزیں ایڈ کرکہ اس نصاب کو مزید بہتر کیا جاتا ہے۔
یعنی آکسویڈ کے نصاب کیساتھ مزید مضمون جوڑ کر تو مشاہدہ یہ کہتا ھکہ بچے پر بوجھ ڈالا جاتا ہے یہی سوال میرے دماغ کے اندر پیدا ہوا تو پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ سارا نصاب رٹنے رٹانے کے لیے کتاب میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ بلکہ اسکے کئی اور مقاصد ہیں۔
مقاصد پر اگر روشنی ڈالی جائے تو کچھ ایسے مضمون شامل کر دئے گئے ہیں۔ جو انسانی تعلیم دیتے ہیں۔
آکسویڈ کی کتابوں کے اندر اسلامی تعلیمات شامل کرنے کا بنیادی مقصد بچے سب رٹنا رٹانا نہ سیکھے بلکہ اسلام کی تعلیمات کا ایک جذبہ وہ چھوٹی کلاسوں سے لے کر چلے تاکہ اسے اسکے مذھب کی معلومات پر غبور ہو۔
سلیبس کے اندر کچھ اسطرح کے مضمون رکھ دئے گئے ہیں کہ بچہ اس پر عملی اکٹیوٹی کرکہ سیکھے۔ جیسے پہلی طبعی امداد تو اسے باقاعدہ طور پر عملی کروایا جاتا ہے۔۔
اسطرح نصاب کے اندر ریسرچ پہ ایسے مضمون شامل کیے گئے ہیں کہ تاکہ بچہ ریسرچ کرنا سیکھے۔ رٹنے رٹانے کے علاوہ اسے اسطرح کی رسرچ دی جائے جن پر وہ دماغی طور پر کام کرے اور خود اپنی محنت سے ریسرچ کے بعد اسے بیان کرے۔
ایک کتاب کے ٹوٹل ایک سو نمبر ہیں۔ مگر یہ پورا سو نمبر رٹے رٹانے والا نہیں بلکہ یہاں بھی ایک نئی چیز متعارف ہوئی ہے۔
وہ نئی چیز 50 نمبر کا پیر جبکہ باقی کے پچاس نمبر بچے کی رائٹنگ ، ریڈنگ، پریزنٹیشن، ریسرچ اور عملی اکٹیوٹی پر مشتمل ہیں۔
بچوں کو ہوم ورک کا بوجھ نہیں دیا جاتا بلکہ ادارہ بچے کے کمزور ہونے اور لاپروا ہونے کا خود کو ذمہ دار سمجھتا ھے۔ اگر کوئی بچہ کمزور ھے تو زیرہ پریڈ اسطرح کی ترتیب کرکہ بچے کو چلایا جاتا ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ رزلٹ میں بچوں کو نمبر نہیں بتائے جاتے جسکا ایک یہی مقصد ھکہ بچے ایک ایک دو دو نمبر سے آگئے پیچھے ہوتے ہیں۔ جسکی وجہ سے اکثر بچے ڈپریشن کا شکار ہوجاتے اور بعض بچے احساس کمتری یا پھر خود کو قصور وار سمجھتے ہیں۔ کلاس کے اندر تین گریڈ بنائے جاتے ہیں۔ اور آٹھ آٹھ دس دس بچے ایک گریڈ پھر دوسرے جسکی بنیادی مقصد کے تعلیم کے اندر بھی بچوں میں مساوات ہو۔
اسکے ساتھ ساتھ بچوں کے تربیت کے خوالے سے اخلاقیات پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ اسطرح کی اکٹویڑیز کروائی جاتی ہیں کہ بچوں کے اندر تمام اچھے کاموں کے جذبات پیدا ہو۔
ایک اکٹیوٹی جو اس سکول کے بچوں کی مجھے بے خد پسند آئی کہ ایک آئس کریم والا جو معیاری آئس کریم نہیں بلکہ غیر معیاری آئس فروخت کر رہا تھا جسکی وجہ سے بچوں کا گلہ خراب ھوا۔ سکول انتظامیہ نے اسے اپنی ایکٹیوٹی میں شامل کرکہ انتظامیہ کے ذریعے قانونی طریقہ کار بتایا کہ اگر اسطرح کے معاملات ہو تو معاشرے کے اندر جو ادارے موجود ہیں ان سے کس طرح کا کام لیا جائے۔
وہ لوگ جو بڑے اسکولوں کےنام پر اپنوں بچوں کو بڑے اسکولوں میں داخل کرکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان لوگوں سے یہ میری درخواست ھکہ وہ ضرور ایک مرتبہ تعلیم جیسے سنجیدہ مسئلے میں بچہ جس سکول کے اندر پڑھ رہا ھے۔ وہ سکول ویزٹ کرے۔ طریقہ تدریس اور نصاب چیک کرے اور بچوں کی
بول چال اور دیگر چیزوں پہ غور کرے۔ ایک بڑا فرق نظر آئے گا۔
ہمارے ہاں انگلش بچے کو آنا سکول کا سٹنڈر کہلاتا ھے۔ جبکہ میں کہتا ھو یہاں اور بھی بہت سارے معیاری سکول موجود ہیں۔ اس سکول کیساتھ ضرور ایک دفعہ انگلش بول چال چیک کرے۔
انگلش جو ایک انٹر نیشل سطح پر ایک حاص لب لہجہ کیساتھ بولی جاتی ھے۔ اسطرح کونسا جملے کسطرح ادا کرنے ہیں۔ صیحی لب و لہجے کیساتھ بچوں کا ضرور موازنہ کرکہ دیکھے کچھ نئا اور کچھ زیادہ بہتر اور معیاری بچوں کو سیکھایا جا رہا ہے۔
میں بعذات خود اس سکول سے جب متاثر ہوا اور میں نے سکول کے ذمہ داران سے بات چیت کی تو سکول والوں سے ایک ریکوسٹ کی۔
پہلے پہل تو انہیں مبارک باد پیش کی جبکہ اسکے یہ ریکوسٹ کی کہ یہاں ہر بچہ اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ فیس ادا کر سکے۔ میں ریکوسٹ کرتا ھوکہ پر کلاس دو دو سفید پوش اور غریب طبقے کے بچوں کو یہاں فری تعلیم دی جائے تاکہ ہم طبقاتی تعلیم تو ایک بڑی جہدوجہد کبعد ختم ہوگئی مگر غربت کی لکیر کے نیچے جو لوگ زندگئی بسر کر رہے ہیں انکے لیے بھی یہاں کوئی گنجائش نکالے۔۔
متاثر ہو کر اتنی نمود نمائش کرنے کا یہی مقصد کہ پر کلاس دو بچے فری تعلیم حاصل کرے گئے۔ یعنی اگر دس کلاسوں کے اندر بیس بچے اگر فری تعلیم حاصل کرے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
اسکے ساتھ بعض اوقات گھریلوں مسائل کیوجہ سے بچے وقت پر فیس ادا نہیں کرپاتے۔ یہاں سرکاری سطح پر بھی تنخواہ رک جاتی ہیں اور بیرونی ممالک میں بھی بعض اوقات چھ چھ ماہ تنخواہ نہیں ملتی تو اس صورت میں ادارے کی کسطرح کی پالیسی ہے۔۔
بقول ذمہ داران کہ بچوں کا تعلق سکول سے ہے۔ والدین اور ذمہ داران کا تعلق فیس اور دیگر چیزوں سے ہے۔ تاہم ایسی کوئی بھی چیز بچوں سے ڈسکز نہیں کی جاتی کہ وہ کلاس میں احساس کمتری کا شکار ہو۔۔ فیس اور دیگر مسائل بچوں کے ذمہ داران سے ڈسکز کیے جاتے ہیں۔
ایک بہترین تعلیم گاہ جن کے اپنے بچے نہیں ہیں بلکہ ٹیچنگ کے فلیڈ کے اندر ہیں وہ ضرور ایک دفعہ سکول ویزٹ کرے۔ سکول کا نصاب چیک کرے۔ بچوں کے اندر تعلیم کی کوالٹی چیک کرے اور اسکے ساتھ ریسرچ ورک اور دیگر اکٹویٹز پر غور کرے۔ تاکہ یہی پالیسی ہر سطح پر اپنا کر بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایک معیار کی پالیساں قائم کی جا سکے۔ قریب آج سے دس سال کے بعد اگر یہ سکول یوں کی محنت کرتا رہا تو نئی نسلوں کی تربیت اور تعلیم کے اندر ایک واضح فرق نظر آئے گا جس طرح آج مختلف سکولوں میں یونفارم کا واضح فرق نظر آتا ہے۔
دینی خوالے سے جہاں مدرسوں کے اندر بھی فرقہ واریت سیکھائی جاتی ھے اسکے متبادل یہاں اخلاقیات، مساوات، میانہ روی، ایثار قربانی جیسے اوصاف پر عملی کام کیا جاتا ہے کہ بچے دین کی اصل چیزوں کو اپنی عادات بنائے۔ گزشتہ دو سال سے 1:15 پہ باقاعدہ سکول میں اذان اور پھر جماعت بچوں کو دنیا کی بہتر تعلیم کیساتھ ساتھ دین کے بنیادی رکن و اوصاف سکول کا ادارہ بچوں میں منتقل کر رہا ہے۔ راولاکوٹ شہر کے اندر کافی سارے سکول اور طریقہ تعلیم ہوگا مگر اپنے بچوں کے لیے نصاب طریقہ تدریس اور اسکے ساتھ ساتھ ایک بہترین تربیت کے لیے سکول ایک دفعہ ہمیں ویزٹ ضرور کرنا چاہئے۔
فون نمبر۔۔۔۔ 03339807235
بقلم حماد اخلاق

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں