بقلم حماد اخلاق
کیا ہم نے فقط لاشوں پر ہی ہمیشہ اکٹھا ہونا ہے۔ سوائے لاشوں کے کیا کوئی ہمارے پاس حکمت عملی نہیں۔
اگر ہمارے راستے الگ ہیں تو ہماری منزل ایک ہے۔ ہمارے نظریات الگ ہیں تو ہمارے نظریوں کی تعبیر تو خوشحال ریاست ہے۔
نظریات اور راستے اپنی جگہ مگر ہمارا بہت کچھ ایک طرز کا بھی ہے۔ ہمارے دکھ سانجے ہیں۔ ہماری غلامی سانجی ہے۔ ہماری ریاست پہ جبر ظلم یکساں ہے۔ ظلمت کی اندھیری رات کی کالک ایک جیسی ہے۔
کیوں نہ اس بار ہم راولاکوٹ کے اندر 22 اکتوبر قبائلی ظلم و ستم کے خوالے سے ایک ہاہمی اتحاد کی صورت میں کمیٹی تشکیل دے کر قبائیلوں کے اصل چہرے سے نقاب اتار سکے۔ کیونکہ اگر یہ چیزیں نصاب کے اندر موجود نہیں تو چوکوں میں جہدو جہد الصاقین کے مخافظوں نے پڑھانی ہیں۔
کیوں نہیں کہ اب کی بار تمام تر جماعتوں کی قیادتوں کو بیس بیس منٹ دئے جائے۔ پہلے دس منٹ کے اندر قبائلوں کی ظلم کی داستان اور اگلے دس منٹ میں اس طویل ظلمت کی رات کے خوالے سے قیادتیں اپنی اپنی حکمت عملی ظاہر کرے کہ اب انقلاب کے لیے کیا کرنا ہے۔ ہم کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ یا بس ہم کارکن ہی تیار کرتے رہے۔
انقلاب کے لیے اب ہم نے کارکن نہیں عقابی روخیں تیار کرنی ہے۔ جب ہماری نیشلزم کی تعداد 75فیصد سے اوپر ھے تو کیا ہمارے پاس کو حکمت عملی نہیں کہ بس کارکن ہی پیدا کرنا ہے اور کارکن ہی قربان کرنا ہے۔ انقلاب کے لیے قربانیاں ضروری ہیں مگر اپنی حکمت عملی کا اظہار بھی ضروری ہے۔
تمام جہدوجہد الصادقین کے کافلے والے تمام لوگ اپنی رائے کا اظہار کرے تاکہ کوئی تاریخ فکس کرکہ کمیٹی تشکیل دے کر مزید تیاری کی جاسکے۔ جبکہ انفرادی طور پر مختلف لوگوں سے بات چیت کر چکا ہو۔ ایک مثبت جواب کی صورت میں تمام لوگوں سے رائے درکار ہے۔
اگر ہمارے راستے الگ ہیں تو ہماری منزل ایک ہے۔ ہمارے نظریات الگ ہیں تو ہمارے نظریوں کی تعبیر تو خوشحال ریاست ہے۔
نظریات اور راستے اپنی جگہ مگر ہمارا بہت کچھ ایک طرز کا بھی ہے۔ ہمارے دکھ سانجے ہیں۔ ہماری غلامی سانجی ہے۔ ہماری ریاست پہ جبر ظلم یکساں ہے۔ ظلمت کی اندھیری رات کی کالک ایک جیسی ہے۔
کیوں نہ اس بار ہم راولاکوٹ کے اندر 22 اکتوبر قبائلی ظلم و ستم کے خوالے سے ایک ہاہمی اتحاد کی صورت میں کمیٹی تشکیل دے کر قبائیلوں کے اصل چہرے سے نقاب اتار سکے۔ کیونکہ اگر یہ چیزیں نصاب کے اندر موجود نہیں تو چوکوں میں جہدو جہد الصاقین کے مخافظوں نے پڑھانی ہیں۔
کیوں نہیں کہ اب کی بار تمام تر جماعتوں کی قیادتوں کو بیس بیس منٹ دئے جائے۔ پہلے دس منٹ کے اندر قبائلوں کی ظلم کی داستان اور اگلے دس منٹ میں اس طویل ظلمت کی رات کے خوالے سے قیادتیں اپنی اپنی حکمت عملی ظاہر کرے کہ اب انقلاب کے لیے کیا کرنا ہے۔ ہم کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ یا بس ہم کارکن ہی تیار کرتے رہے۔
انقلاب کے لیے اب ہم نے کارکن نہیں عقابی روخیں تیار کرنی ہے۔ جب ہماری نیشلزم کی تعداد 75فیصد سے اوپر ھے تو کیا ہمارے پاس کو حکمت عملی نہیں کہ بس کارکن ہی پیدا کرنا ہے اور کارکن ہی قربان کرنا ہے۔ انقلاب کے لیے قربانیاں ضروری ہیں مگر اپنی حکمت عملی کا اظہار بھی ضروری ہے۔
تمام جہدوجہد الصادقین کے کافلے والے تمام لوگ اپنی رائے کا اظہار کرے تاکہ کوئی تاریخ فکس کرکہ کمیٹی تشکیل دے کر مزید تیاری کی جاسکے۔ جبکہ انفرادی طور پر مختلف لوگوں سے بات چیت کر چکا ہو۔ ایک مثبت جواب کی صورت میں تمام لوگوں سے رائے درکار ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں