اس سے پہلے کے
نظریہ علم کو جانا جائے چند تعریفیں سمجنا بہت ضروری ہیں. سب سے پہلے
معروض کو
سمجنے کی کوشش کرتے ہیں. معروض ایسے مادی مظہر کو کہتے ہیں جو انسانی ذہن سے باہر آزاد وجود
رکھ سکتا ہو، اور موضوع ایسے مادی مظہر کو کہتے ہیں جو اپنا وجود رکھنے کے لیے
انسانی ذہن کا محتاج ہو.یاد رہے کہ معروض اپنا اظھار ٹھوس اشیا یا عمال کی صورت
میں کرتا ہے جبکہ موضوع خیالات ،احساسات ،جذبات،حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی صورت
میں رونما ہوتا ہے.
معروض اور موضوع
کے بحث کو سمجنے کے بعد یہ سمجنا بہت
ضروری ہے کہ انسان علم کیسے حاصل کرتا ہے یا کر سکتا ہے.علم در حقیقت انسان کے ارد
گرد موجود دنیا یعنی معروض کے ادراک کا نام ہے.یہ ادراک انسان محض اپنے حواس خمسہ
سے کر سکتا ہے.مطلب حقیقی علم انسانی ذہن سے باہر اپنا آزاد وجود رکھتا ہے. لیکن
جب یہ علم خواس خمسہ کی وساطت سے انسانی ذہن میں اپنا گھر بناتا ہے تو وہ موضوعی
وجود کا حامل ہو جاتا ہے.گویا علم اپنے اندر معروضی اور موضوعی دونوں خصوصیات رکھتا ہے. لیکن کیا
معروضی اور موضوعی علم ایک ہی حقیقت کا اظھار ہوتے ہیں. یا پھر ان میں فرق موجود
ہے. اور اگر فرق موجود ہے تو پھر سچائی کا ادراک کیسے کیا جائے.
آیے ایک سادہ سی مثال
سے اس گھتی کو سلجھاتے ہیں.چاند ایک سیارے کی صورت ہمیشہ سے زمین کے گرد چکر لگا
رہا ہے.مثلا چاند کی معروضی حثیت ہمیشہ سے ایک سیارے کی ہے جو سورج سے زمین پر
روشنی منعکس کرتا ہے.مگر قدیم انسانوں نے چاند کو دیوتا سمجھا مثلا چاند کے معروضی
حقیقت قدیم انسانوں کے ذہن میں آ کر تبدیل ہو گیئ . لیکن جدید انسان نے اپنے
موضوعی علم کو پرکھنے کے لیے ایسے آلات ایجاد کیے اور ایسے تجربات کیے جس سے وہ
چاند کی اصل معروضی خقیقت کے قریب تر پہنچ گے .
گویا معروضی علم
آپ کے ذہن میں پہلے سے موجود خیالات کی زد میں آ کر اپنی حقیقت تبدیل کر لیتا ہے.
لیکن اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اپ کے ذہن میں موجود علم (موضوعی علم ) درست ہے یا
نہیں تو آپ عمل کی دنیا میں آ کر تجربے کی روشنی میں اسے ثابت کریں. اگر آپ کا علم
تجربے پر کھرا اترتا ہے مطلب معروضی علم سے مطابقت رکھتا ہے تو وہ درست ہے اور اگر
نہیں تو سمجھ لی جیے کے وہ آپ کے ذہن میں موجود توہمات کی زد میں ہے. غرض یہ کہ
نظریہ علم اپنے جوہر میں خالص عمل کو ناگزیر ثابت کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ
حقیقت تک پہنچنے کے لیے علم اور عمل کا اتحاد لازم ہے.
عزیز دوستو آپ
اور میں جس سماج کا حصّہ ہیں اس کو آگے بڑھنا ہے.لیکن آگے بڑھنے کا سچا اور درست
راستہ کیا ہے. اس حقیقت کو دریافت کرنے کے لیے اہل علم کو عمل کے میدان میں آنا ہو
گا اور اہل عمل کو اپنی فکر مضبوط کرنی ہو گی. یہی نظریے علم کا درس بھی ہے اور یہ
نظریے عمل بھی ہے.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں