??? ???????

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 23 اکتوبر، 2018

ماہِ اکتوبر، دوقومی نظریہ اور ریاست جموں کشمیر


تحریر: شجاع مشتاق
تاریخ اقوام عالم اس بات کی شاہد ہے کہ مادی وسائل کے حصول کی خاطر اقوام میں اکثر کشمکش اور تصادم رہا ہے ۔جب ایک قوم کسی دوسری قوم پر قبضہ کرتی ہے اور اس کے وسائل کو لوٹتی ہے تو وہ اپنے سامراجی مقاصد کی تکمیل اور دوام کے لیے بیک وقت دو محاذوں پر کام کرتی ہے۔۔ اول توہ وہ طاقت کے زور پر عیاری اور قتل و غارت گری کے ذریعے دوسری اقوام پر قبضہ کرتی ہے اور پھر اپنے قبضے کو دوام بخشنے کی خاطر دوسرے اور سب سے اہم محاذ پر کام کرتی ہے جہاں وہ مقبوضہ قوم کے خلاف نظریاتی اور تمدنی جنگ لڑتی ہے ۔اس جنگ میں وہ منظم انداز سے ایک ایسے نظریے کے بل بوتے پر اس قوم کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرتی ہےکہ جس کی وجہ سے مقبوضہ قوم کے لوگ نہ صرف اپنے ماضی سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور اپنی تاریخ سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں بلکہ قابضین کو خدا کی ایک نعمت کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ قابضین کا یہی وہ سب سے کارگر ہتھکنڈہ ہوتا ہے جس سے قابضین کے قبضے کو دوام حاصل ہوتا ہے کیونکہ حقیقی تاریخ کا علم حاصل کرنا اور اس کا صیحح اور تنقیدی جائزہ ہی بہتر مستقبل کی تعمیر کا ضامن ہوتا ہے۔
ایک ایسی ہی ریاست ریاست جموں کشمیر ہے کہ جس کو تقسیم برصغیر کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی دو نومولود ریاستوں پاکستان اور انڈیا نے ٹکڑوں میں منقسم کر دیا۔مسئلہ کشمیر کی تاریخ پر حقیقت پسندانہ نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ ریاست کی تقسیم میں تقسیم انسانیت اور فساد کے نظریے(دوقومی نظریے) کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک پاکستان کا سب سے کلیدی کردار ہےجس کو بنیاد بناتے ہوئے آگے چل کر بھارت نے بھی ریاست کشمیر کی تقسیم اور ریاستی باشندوں کی قتل و غارت گری میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔
نفرت، تعصب اور تقسیم کے اس نظریے کا زہرریاست جموں کشمیر میں انڈیلنے کے منصوبے کاعملی آغاز 04 اکتوبر 1947 کو ہوا جب پاکستان نے ریاستی سطح پر ریاست جموں کشمیر میں ریاستی حکومت کی طرف سے عائد کردہ ٹیکسوں اور شخصی راج کے خلاف جمہوری حقوق کے لیے شیخ عبداللہ کی قیادت میں چلنے والی ریاستی تحریک کی آڑ لے کر ریاست میں مذہب کی بنیاد پر نفرت کا زہر داخل کرنے کا پروگرام بنایا اور اس کو عملی شکل دینے کے لیے ایک عارضی باغی حکومت کا ڈھانچہ بھی تیار کیا گیا۔یاد رہے(اس منصوبے کو ابتدائی شکل پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے 12ستمبر1947 کو سردار شوکت حیات خان، میاں افتخارالدین، کرنل اکبر خان، اور میجر جنرل زمان خان کے ساتھ لاہور میں ریاست جموں کشمیر پر قبضے کی منصوبہ بندی کی غرض سے بلائے گئے ایک اجلاس میں دی )۔
نفرت کی بنیاد پر تقسیمِ برصغیر کی وجہ سے پیدا شدہ نفرت کی فضا کے زیر اثر پاکستان ریاست جموں کشمیر میں چلنے والی تحریک میں ایک محدود حد تک ریاست میں چلنی والے تحریک کو مذہبی رنگ دینے میں کامیاب ہوا اور اسی کو بنیاد بنا کر پاکستان نےریاستی حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدہ قائمہ Standstill agreementکو توڑتے ہوئے اپنے ایک حاضر سروس میجر خورشید انور کی قیادت میں بیس ہزار کے لگ بھگ قبائلی جتھے ریاست جموں کشمیر میں داخل کر دیے۔یہ قبائلی جتھے وحشی پٹھان قبائل پر مشتمل تھے جنہوں نے بلا تفریق ریاستی باشندوں کو تہ تیغ کیا، املاک تباہ کیں، عورتوں کی آبروزیزی کی ، اور زیورات اور دیگر قیمتی مال لوٹتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ اس تمام صورتحال حال سے گھبرا کر مہاراجہ ہری سنگھ ریاست پر ہونے والی اس بیرونی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت سے عارضی الحاق کر دیا۔ اس عارضی الحاق کی بنیاد پر بھارت نے 27 اکتوبر1947 کو اپنی فوجیں ریاست میں اتار دیں اور یوں ریاست جموں کشمیر کے تاریک ترین دور کا آغاز ہوا جو ہنوز جاری ہے۔بعدازاں یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں بھی پہنچاجہاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس ضمن میں قراردادیں بھی منظور کیں جس میں پاکستان کو مکمل طور پر اور بھارت کو جزوی طور پر ریاست سے اپنی فوجیں نکالنے اور ریاست جموں کشمیر کے اندر رائے شماری کروانے کو کہا گیا۔
یہ تمام واقعات تاریخِ ریاست جموں کشمیر کے سیاہ ترین باب تو ہیں ہیں لیکن سب سے المناک حقیقت یہ ہے کہ گو کہ مذہبی تقسیم کا وہ نظریہ جو پاکستان کے وجود میں آنے کےچند ہی سال بعد اپنی موت آپ مر گیا اور مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش) کی علیحدگی کی صورت میں اس کے تابوت میں آخری کیل تک ٹھوک دی گئی لیکن پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں آج بھی ریاستی سرپرستی میں ریاست جموں کشمیر کی حقیقی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا تاکہ کسی بھی ریاست گیر تحریک کا راستہ روکا جا سکے اور قابضین ریاست کے اندر جاری وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور جہاد کے نام پر قتل و غارت گری کا بازارگرم رکھ 

سکیں۔ 

اس تمام صورتحال میں جہاں ان تمام جماعتوں پہ کہ جو ریاست کی وحدت کی بحالی کا علم تھامے ہوئے ہیں کا یہ فرض ِ اولیں ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر کی حقیقی تاریخ کو نوجوانوں تک پہنچانے اور بلا تفریق رنگ نسل و مذہب ریاست گیر تحریک کا شعور اجاگر کرنے میں اپناکردار ادا کریں وہیں پاکستان اور بھارت کے انسان دوست حلقوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کے استحصال کہ خلاف آواز اٹھا کر اس کی آڑ میں ہونے والی پاکستان اور بھارت کے عوام کے معاشی اور سیاسی استحصال کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں....

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????