??? ???????

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 23 اکتوبر، 2018

مسلہ گلگت اور بیچاری عوام

گلگت پاکستان کا حصّہ نہیں بنا بلکہ یہ شراکت ہوئی ہے گلگت اور پاکستان کے حکمران طبقوں کی. جہاں تک سوال ہے کشمیر کی تقسیم کا تو گلگت نہ کبھی کشمیر کا حصّہ تھا اور نہ ہو گا . البتہ ایک رشتہ جو گلگت کا کشمیر اور پوری دنیا کے انسانوں سے ہے وہ طبقاتی رشتہ ہے.اس لیے کشمیر اور گلگت کے قوم پرستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ بات ذہن نشین کر کے قومی تحریک کو ہمیشہ طبقاتی تحریک کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھائیں. اس طرح ریاست کی کسی بھی طرح کی تقسیم سے ان کی طاقت کبھی  تقسیم نہیں ہو گی.
اس تناظر میں  گلگت کی عوام کی زماداری ہے کہ  وہ جلد از جلد ان تمام صوبائی حقوق کا مطالبہ ریاست سے کریں جو انھیں کشمیر کی وجہ سے نہیں مل سکے. آزاد کشمیر کے لوگوں کو ستر سال سے جو قانون ساز اسمبلی ملی ہے اس کو با اختیار بنانے اور کشمیر کونسل کی غلامی سے نکالنے کی جدوجہد کریں. اور ساتھ ہی پاکستان سے اس وکالت کے بارے میں پوچھیں جو وہ کشمیر میں راے شماری کے لیے بین الاقومی اداروں کے سامنے کرتا رہا ہے اور ہمیشہ راے شماری نہ ہونے اور یونائیٹڈ nations کے قوانین  کے خلاف ورزی  کا الزام بھارت پر لگا کر عوام کو بیوقوف بناتا رہا ہے.
گلگت سے بلوچستان تک تمام محنت کش عوام کو بھی قومی بنیادوں پر منسلک ہو کر طبقاتی جدوجہد میں  ایک دوسرے کی عملی حمایت کرنی چاہیے . 
شکریہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????