ریاست جموں کشمیر کی جدید تاریخ 27 اگست 1947 سے شروع ہوا کرتی تھی،
مطالعہ پاکستان میں ریاست جموں کشمیر پر تین پیراگراف میں یہ بتایا گیا تھا کہ بھارت نے ریاست جموں کشمیر پر حملہ کیا تو پاکستانی قبائل نے ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کی اور "آزاد کشمیر" کو "آزاد" کروایا اور وہ ہمارے ہیرو ہیں۔
بچپن میں "پختڑے" لفظ سن رکھا تھا۔ جس کا مطلب تو معلوم نہیں تھا البتہ دادی اماں ایک کہانی سنایا کرتی تھیں۔
جب پختڑوں نے حملہ کیا تو یہ دوپہر کا وقت تھا۔ ہمارے علاقے میں تو ہندو نہین رہتے تھے، وہ لوگ زیادہ مار دھاڑ کرتے تھے۔ ان کی کہانیاں ان سے پہلے پہنچ چکی تھیں، ان کی تعداد دس سے بارہ تھیں مگر ان کی وحشت و بربیت کے قصوں کا یہ عالم تھا کہ جس علاقے میں وہ جاتے تھے بچیوں اور خواتین کو چنگل میں بھیج دیا جاتا تھا تاکہ ان کی دسترس سے دور رہیں ضروری اور قیمیتی ساز و سامان بھی ان سے چھپا دیا جاتا تھا۔
جب وہ گاؤں میں داخل ہوئے تو میں توے پر مکئی کی روٹی بنا رہی تھی، ہر طور شور ہونے لگا کہ "پختڑے آ گئے" سب لوگوں نے اپنے بال بچے جنگل کی طرف بھیج دیے۔ میں نے جلدی سے آدھی پکی اور آدھی کچی روٹی اتاری، آٹا اٹھایا، اور جو کچھ ساتھ لے سکتے تھے اٹھا کر بھاگ گئے، وہ رات ہم نے ایک بہت بڑے پتھے کے نیچے بسر کی جو محلے سے تھوڑا سا دور جنگل کے شروع میں تھا اور وہاں سے ان پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔
یہ لوگ نیچے بیلے (نالے کے ساتھ علاقے کو پہاڑی میں بیلہ بولتے ہیں، یعنی نالے کے اطراف) وہاں کچھ بھیڑیں گاؤں کے ایک بندے کی تھیں انہوں نے اس میں سے ایک بھیڑ پکڑی، اسے ذبح کیا اور وہیں اگ جلا کر اسے بھون کر کھایا۔ اگلے روزے یہ سامنے والے پہاڑی سے دوسری طرف چلے گئے۔
ایک اور بزرگ سے جو اس زمانے میں اسکول میں پڑھا کرتے تھے، بعد میں گاؤں میں ہی سرکاری اسکول میں پڑھاتے رہے، بتایا کہ گاؤن کی قریبی ملحکہ بہکوں میں لوگون نے تمباکو کاشت کیا ہوا تھا ان لوگون نے اسے اکھاڑا اور اس کی سبزی بنا کر کھانے لگے، نتیجتا دوسرے روز سب کے منہ پھولے ہوئے تھے۔ پختڑوں (قبائلیوں) نے ایک شخص کو رکنے کے لیے کہا تو وہ ڈر سے بھاگ گیا انہوں نے اس پر گولی چلائی جو کہ اس کی ٹانگ پر لگی۔
یہ لوگ اخروٹ کے پھل سے نا آشنا تھے اس لیے اسے چھلکے سمیت کھا رہے تھے۔ جب بھارتی فوج نے ان پر لتر برسانا شروع کیے تو یہ واپس بھاگے، اور ہوائی جہازوں کو دیکھ کر کہتے تھے کہ نیچے سے ہندو مار رہا ہے اوپر سے خدا مار رہا ہے۔ انہونے نے پیچھا کرتی بھارتی فوج سے جان چھڑانے کے لیے کیرن کا پل کاٹ دیا یوں کئی خاندان ایک ہی رات میں دو حصوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تقسیم ہو کر رہ گئے۔
پاکستان ہمیں وہ سب نہیں بتاتا تو بائیس سے ستائیس اکتوبر کے درمیان موجودہ آزاد کشمیر میں ہوا۔ البتہ یہ ضرور بتایا جاتا ہے کہ چھ نومبر کو جموں میں چھ لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کیا جس کے نیجے میں مظفرآباد میں ہندوؤں کو قتل کیا گیا۔ ہے نا مزے کی بات چھ نومبر شاید اس زمانے میں بائیس اکتوبر سے پہلے آیا کرتا تھا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں