??? ???????

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 23 اکتوبر، 2018

محنت کش کے لیے آواز اٹھاو۔۔

پٹواری انصافیوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ انصلافی پٹواریوں کو گالی دیتے ہیں۔ سیاست کے اندر صرف ایک دوسرے کو گالیاں دینے میں ہی سنجیدگئی نظر آتی ہے۔ ایسی سیاست سے ہمارا دور دور تک واسطہ نہیں ہے مگر انسانیت کے ناطے کچھ کام آدمی بغیر سیاسی بھی ہو کر کرسکتا ہے۔
پاکستان اور کشمیر سے ایک بہت بڑا طبقہ جو بیرونی ملک کام کرتا ہے۔ جس پر پاکستان معیشت ابھی تک برقرار ہے۔ خواہش دل ھکہ اس محنت کش طبقے کے لیے ہم کچھ زیادہ تو نہیں کر سکتے مگر ایوانوں تک انسانیت کے ناطے ایک آواز تو پہنچا دے۔


پاکستان کے اندر جو آئندہ دور میں ویزے آئے اس سلسلے میں ایک مثبت سوچ اگر ہم ایوانوں تک پہنچا دے جس سے محنت کش طبقے کو کچھ حق تو مل جائے۔
ایک مزدور جو ایک ہزار میں سعودیہ دبائی قطر اور دیگر ممالک میں جاتا ہے۔ زیادہ تر اسی ہزار سے اس نے کھانا پینا بھی ہوتا ھے اور اپنے گھر پر فون وغیرہ بھی کرنا ہوتا ہے۔
ہم کوشش کرتے ہیں کہ ایوانوں تک ہم یہ آواز اٹھائے کہ مزدور کی تنخواہ حکومت پاکستان کم از کم پندرہ سو تک کرے اور اسکے علاوہ اوور ٹائم۔
حکومتی سطح پر یہ معاہدہ کیا جائے کہ لیبر ریٹ کو زیادہ کیا جائے۔ تاکہ بہت سارے کھٹن اور معاشی جلا وطنی کاٹنے پر اسے کم از کم اتنی اجرت ملے کہ وہ اپنے پیٹ پر مجبوریوں اور ذمہ داریوں کے باعث ایک ایک دو دو وقت کے فاقے نہ کاٹے۔ اسکی صحت برقرار رہے اور کم از کم کچھ آسانی سے اپنا اور اپنے کنبے کا دن اچھے سے گزار سکے۔
اسکے لیے ہم نے کوئی زیادہ بڑا کام نہیں کرنا ہوگا۔ یہ آواز ہم انفرادی طور پر بھی اٹھا سکتے ہیں۔ اگر فیس بک کے ذریعے عمران خان کی پارٹی کے اندر ایک قاتل سے واپس ٹکٹ لیا جا سکتا ہے تو اسے فیس بک کے ذریعے ہم ایک با وزن محنت کش طبقے کے لیے آواز بھی بنا سکتے ہیں۔
وہ دوست حضرات جن کا تعلق صحافت یا کسی بھی پرنٹ میڈیا سے ہے۔وہ اپنے طور پر یہی پیغام کم از کم تین لائنوں میں مختصرا کرکہ یہ خبر شائع کرے کہ نئی پالیسی حکومت وقت اسطرح تشکیل دے کہ بیرونی ممالک سے جو ویزہ بھی آئے کم از کم پر لیبر ویزہ پندرہ سو سیلری کا ہو۔ اس سے کم ریٹ پر ویزہ ہی نہ پراسس کیا جائے۔
اس کے کئی فوائد ہیں۔
غریب طبقہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسرے ممالک میں چوری نہیں کرے گا۔
غریب طبقہ تین وقت کی کم از کم روٹی کھائے گا۔
غریب طبقہ خالات سے تنگ آکر خودکشی نہیں کرے گا۔
غریب طبقہ پر امن زندگئی بسر کرے گا۔
جو یہی طبقہ پانچ سو کے بجائے ہزار پاکستان منتقل کرے گا۔ آپکی معیشت مزید مضبوط ہو گئی۔
اسطرح سے کئی اور فوائد بھی ہیں۔
ہر آدمی محنت کش طبقے کی آواز بنے۔ اور ان شاء اللہ امید کر سکتے ہیں کہ ممکن کوئی اس طبقے کے بارے میں بھی سوچ سمجھ سے کچھ مثبت اقدام اٹھائے۔
بقلم حماد اخلاق

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????