??? ???????

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 23 اکتوبر، 2018

فقہی اعتبار سے مسئلہ کیا ہے؟



فقہی اعتبار سے مسئلہ کیا ہے؟
عورت کا جنازہ پڑھنا نا جائز ہے؟
یا
عورت اور مرد کا مخلوط نماز جنازہ پڑھنا نا جائز ہے؟
نائلہ خانین کے جنازے ۔ پر تنقید اور تعریف کی بنیاد کیا ہے نماز جنازہ یا مرد و زن کا اختلاط ؟
مسئلہ اگر اختلاط کا ہے تو پھر تو کو ایجوکشن اور بازار میں مرد و زن کا اختلاط بھی از روئے شریعت ناجائز ہے۔۔۔
اس لئے نمازجنازہ پر مرد و زن کے اختلاط کے خلاف کسی بھی دوست کو اپنی ماہرانہ رائے دینے سے پہلے پوری سوسائٹی میں شرعی پردہ کا نفاز ممکن بنانا ضروری ہے تاکہ اختلاط مرد و زن ممکن نہ ہو سکے ۔ ۔۔ جب پوری سوسائٹی ہی شرعی مفہوم کے اندر بے پردگی کاشکار ہے تو جنازہ پر اختلاط مرد و زن پراسمان سر پر اٹھانا کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ ۔۔۔
شرعی احکامات کی بنیاد پر مرد و زن کا مخلوط نمازجنازہ اثمھما اکبر من نفعھماکی بنیاد پر درست نہ ہے کیونکہ جنازہ فرض کفایہ ہے اور اختلاط مرد وزن ممنوع ہے لیکن یاد رہے کہ اس کے ممنوع ہونے کی علت (اختلاط ) ہے نہ کہ عورت کا جنازہ پڑھنا ۔۔۔ اب اتے ہیں معاملے کےدوسرےپہلو کی طرف۔ ۔۔
قوم پرست ترقی پسند طاقتوں کے کیڈرکا اس طرح کی مزہبی رسومات کے متعلق کیا رویہ ہونا چاہیے۔ ۔
میں بیحیثیت سنی حنفی دیوبندی مسلمان کے شاید کبھی بھی اس طرح کی مخلوط نماز جنازہ درست نہیں سمجھتا کیونکہ یہ میرے عقائد کے خلاف ہے وہ عقائد کہ جن کاتعلق میرے رب کے ساتھ ہے اور ان پرعملدرآمد کے متعلق میرارب مجھ سے پوچھ سکتا ہے نہ کہ کوئی دوسری اتھارٹی۔ ۔۔لیکن میں ایک قومی جمہوری انقلاب کے لئیے جدوجہد کرنے والے ادنی سے سپاہی ہونے کی بنیاد پر ہر اس عورت کے حق کی لڑائی لڑنے کو ناگزیر سمجھتا ہو جو اپنے عقائد ایکسرسائز کرناچاہتی ہے اگر میں کسی کی رائےکو تسلیم نہیں کرتا تو اسکا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اس کے شخصی جمہوری حق کو بھی تسلیم نہیں کرتا میں اس کے عقیدے مزہبی رسوم۔ کی ایکسر سائز اور ازادی اظہار کے لئے اخر تک لڑوں گا نہ کہ اپنے عقائد مسلط کروں گا کہ صرف اسی سے میں اپنے عقیدے کی ازادی کو یقینی بناوں گا۔ ۔
ہمارے سماج کاالمیہ ہے کہ یہاں سیاست اور مذہب کو یوں گڈ مڈ کر دیا گیا ہے کہ مذہبی معاملات کو سیاسی اور سیاسی معا ملات کو مذہبی بنیادوں پر تجزیہ کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے یہی وجہ ہےکہ مرعوبیت کی بنیاد پر نقل کردہ لبرل ازم جنازوں پر اظہار کرتا ہے اور سیاسی دانش کے حامل لوگ پوچھتے ہیں کہ مذہبی فلسفے کہ منکر لوگوں کو جنازہ پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ؟ (ایسے سیاسی تکفیری مجھے مولا علی کا یہ قول یاد دلاتے ہیں ھل شققت قلبہ کیا تم نے دل چیر کےدیکھا ہے) جب تک ہم سیکولرازم اور جمہوریت کی روح کو نہ سمجھیں گے یقین مانیں ہم مذہبی بنیادوں پر سیاست سے جان نہیں چھڑاسکیں گے کہیں لبرل ازم کے نام پر مذہب کو اور کہیں اسلام کے نام پر لوگوں کےذاتی معاملات و عقائد میں دخل دے کرمذہبی ازادی جیسے شخصی حقوق کو خراب کرتے رہیں گے۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????