??? ???????

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 23 اکتوبر، 2018

راولاکوٹ میلہ

جمعہ مبارک کے دن جمعہ کبعد ایک دوست بتانے لگے۔ میں نے فلاں مسجد کے اندر جمعہ پڑھا اور دوران خطبہ امام صاحب بتا رہے تھکہ یہ جو راولاکوٹ میلہ لگا ھے یہ فحاشی کو فروغ دینے کے لیے لگایا گیا ھکہ اس پہ جہدوجہد کرکہ ہمیں اسے ختم کرنا ہوگا۔

مولوی صاحب یونیورسٹی ، سکول ، کالج ہسپتال اور دیگر ایسی کئی جگہ ہیں۔ جہاں پر مرد اور عورتیں اکھٹے ہوتے ہیں۔ بنکوں کے اندر اسکے ساتھ ساتھ پبلک گاڑیوں اور دیگر کئی مقامات پر اور کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ وہاں بھی کسی نہ کسی ادارے سے اسطرح کی باتیں سامنے آتی ہیں کہ وہاں اسطرح یہ غلط ہوا ہے۔
دراصل ادارے ایک مثبت اور عوامی فوائد کے طور پر بنائے جاتے ہیں اور انکا تقاضہ یہ ہوتا ھکہ بنی نوع انسان ان اداروں سے فوائد حاصل کرسکے۔ جہاں بے شمار فوائد ھوتے ہیں وہاں کچھ نا سور اسطرح کی حرکت کرتے ہیں۔ جس سے ادارے بدنام ہوتے ہیں۔ اب اگر یونیورسٹی اور کالجز کو دیکھا جائے تو وہاں لڑکیاں پڑتی ہیں۔ وہاں سے ڈاکٹر بنتی ہیں اور ایک لیڈی ڈاکٹر ہی ایک لیڈی کی ڈیلیوری کرتی ہے۔ دیگر کئی ایسے امراض جو لیڈی ڈاکٹر ہی ایک لیڈی کے لیے بہتر ہے۔ اب کیا ہم یہ سوچ کر ایسا کرے کہ لڑکیاں جہاں جائے گئی وہاں بے خیائی ہوگئی۔
اسطرح سے میلہ بھی لگایا گیا ہے۔ میلہ لگانے والے یہ کون لوگ ہوتے ہیں۔ یہ کیسے سفر کرتے ہیں اور کب تک انکا سفر جاری رہتا ہے اس پہ ایک الگ بعث ھے مگر مختصرا پنجاب کے اندر ایک گاؤں میں میرا میلے والوں سے واسطہ پڑا تو معلوم ھوا کہ یہ لوگ بھی بکروالوں کی طرح سال سال رزق کی حاطر اپنے کنبے کو ساتھ لیے گردش کرتے ہی رہتے ہیں۔
چھوٹی چھوٹی سحطوں پر اس میلے کے خوالے سے یہ بھی سنے کو آیا کہ اس میلے کا مقصد یہاں کی کلچر اور رسم و رواج کو ختم کرنا ہے اور یہ میلہ ایک پری پلان منصوبہ ھے۔ یہ باتیں آج ایک جگہ پر میں نے گفتگو کے دوران سنی تو سوچا کچھ لکھا جائے۔
دراصل ایسے دماغ بہت چھوٹی سطح کے دماغ ہوتے ہیں۔ انکی وسعت انکی سوچیں ایک محدود دائرے کے اندر ہوتی ہیں۔ 75 فیصد کشمیری پنڈی کے اندر جا کر ذرائع معاش اپنائے ہوئے ہیں بلکہ وہاں رہتے ہیں اور زندگئی بسر کر رہے ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے نیشلزم کو نقصان ھو رہا ہے۔
دراصل ہماری جنگ سرمایہ دار کے خلاف ھے۔ ہماری جنگ ظالم کے خلاف ہے۔ ہماری جنگ ایک مضبوط طبقے کے خلاف ہے۔ ہماری جنگ اس نظام کے خلاف ہے جس کی بدولت ہم غلامی معاشی تنگی کی زندگئی گزار رہے ہیں۔ ہمارے جہاں انکے خلاف ھے جو خونی باڑ بنا کر ہم سے کھیل رہے ہیں۔
یہ میلے یہ جنازے اور دیگر چیزیں ان پہ چہ مگوئیاں کرنے والے نان ایشوز پیدا کرکہ اصل ایشوز سے توجہ دور کر رہے ہیں۔ 
حق اور سچ میں لوگوں کو واضح فرق بتانا ہمارا مقصد ہے۔ ہمارا مقصد اپنے قلم کو ہر فتنے سے پاک رکھ کر انسانیت کو فروغ دینا ہے۔ ہماری جہدوجہد کا مقصد ظالم سے انصاف دلانا ہے۔ جس کی پہلی منزل شعور ھے وہ اپنی بساط سے ہم کوشاں ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہی ملے اور سرمایادار اور سامراجی ہتھکنڈوں سے نکل کر اصل شعور کی بنیاد پر بغاوت کرکہ حق حاصل کرے۔
اگر ہم میلے والوں پر یہاں کوئی ظلم کرتے ہیں تو یہ ہمارے کلچر کی اخلاقیات کا مظاہرہ کرے گئے اور اسطرح کسی کی معاش کو تباہ کرتے ہیں تو انسانیت کو پامال کرے گئے۔
اگر کچھ کرنا مقصود ھے تو اصل چہرے جن کے غلام ہیں انکے خلاف بغاوت کرے۔
ہم چلے غیور بنے کسی کی ریڑھی کو ٹھوکر مار کر کسی کے پیٹ کو لاٹ مار کر ہم چلے کشمیر فتح کرنے۔۔۔ کشمیر فتح کرنے کے لیے انسانوں کی ضرورت ھکہ جو انسان کے روپ میں جانور ہو وہ جانوروں والا کردار ادا کرے گئے۔
اسکے ساتھ ساتھ کسی دوسری سرحد پار کے انسان سے ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ ہماری دشمنی اس نظام سے ہے اس نظام کے خلاف کل بھی کھڑے تھے کل بھی کھڑے ہیں۔ 
میلے کے اندر جو بھی نا زیبہ حرکت کرے گا اور اسی غرض سے جائے تو تو وہ اس ناسور کیطرح ہے جو یونیورسٹی کالجز کے اندر ایسی حرکت کرے۔ ایسی حرکات کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے۔ اور اگر کسی کے پری پلان کے تحت ایسی حرکت کرتا ھے تو اسکا تعلق ضمیر فروشی سے ہے۔ 

بقلم حماد اخلاق

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????