??? ???????

Post Top Ad

Your Ad Spot

بدھ، 24 اکتوبر، 2018

اکتوبر کا سبق بھول نہ جانا


تحریر... طیب ریاض




یہ ماقبل تاریخ کی بات ہے فطرت کی کوکھ سے ابھی انسان نے جنم لیا ہے اور 
فطرت نے انسان کو اپنی رحمتوں کے سائے میں لپیٹ
رکھا ہے مگر فطرت کا بنیادی جوہر تضاد ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ فطرت اصل میں تضاد ہی ہے اسلئیے اسکی بے مہار رحمتوں کے ساتھ بے رحمی کا عنصر بھی اتنا ہی شدید ہے .یوں فطرت کا یہ مظہر جسے انسان کہا جاتا ہے فطرت کے پنگھوڑے میں فطرت کی رحمتوں کے سائے تلے فطرت کی بے رحمی کے ساتھ بھی نبرد آزما ہے ..فطرت کے ساتھ تعلق میں بنیادی اہمیت انسان کی سرگرمی اور محنت کو حاصل ہے کہ اسی سرگرمی کی بدولت انسان نہ صرف فطرت کی رحمتوں اور نعمتوں سے مستفید ہوتا ہے بلکہ اسکی بے رحمی سے بھی مقابلہ کرتا ہے اس سرگرمی سے انسان نے اوزار و الات کا استعمال سیکھا اور باہمی تعلق کو مضبوط تر کرتا چلا گیا یوں اس مظہر نے جنم لیا جسے سوسائیٹی یا سماج کہا جاتا ہے...
ابتدائی انسانی سماج جو کہ ملکیت،طبقات ،حاکمیت اور اتھارٹی کے تصورات سے پاک تھا ایک وقت ایسا ایا کہ سماج کی تعمیر انھی تصورات کے گرد ہونا شروع ہو گئی اور مادی حالات کے باعث غیر طبقاتی سماج نے اپنے اندر سے طبقاتی سماج کی بنیاد رکھی فطرت کی بے رحمی سے لڑائی ثانوی حیثیت اختیار کر گئی اور نسل انسانی کو طبقاتی جنگ سے پالا پڑا اسی طبقاتی جنگ نے سماج کو اس سطح پر ترقی دی جہاں اج وہ فطرت پر حکمرانی کا خواب دیکھتا ہے اور اپنے اسی خواب کی تعبیر کے لئیے سرگرداں بھی ہے مگر سیانے کہتے ہیں کہ فطرت کی بے رحم طاقتوں سے جیتنے کے لئیے طبقاتی میدان میں فتح ناگزیر ہے ورنہ دولت ،سرمائے اور منافع کی ہوس ہی شاید کہیں اس پوری نسل انسانی کو نگل نہ جائے اور فطرت کا یہ مظھر (سماج)اپنے ہی داخلی مظاہر کی بھینٹ چڑھ کر لقمۂ اجل نہ بن جائے ..
اج سے کچھ سال قبل اسی مہینے کے اسی دن ہم نے فطرت کی وہ بے رحمی اپنی آنکھوں سے دیکھی جس کا اشارہ درج بالا سطور میں دیا گیا .صبح کا وقت تھا معمول کے مطابق سب لوگ نیند سے بیدار ہوئے صدیوں کی مشقت کو اپنے سینے پر جھیلنے والی ،قربانی و محبت کی بھٹی میں جل کر کندن بننے والی ہمارے جیسے پسماندہ سماجوں میں بلا اجرت گھریلو مشقت کی زنجیروں میں بندھی ممتا اپنے فرائض منصبی نبھاتے ہوئے اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کے پیٹ کا ایندھن تیار کرتی ہے پھر انکی پیشانی پر ممتا کی محبت سے معمور بوسہ دے کر انھیں سکول کالجز کی طرف روانہ کرتی ہے... صدیوں سے جاری محبت کی جنگ میں فتح یاب کوئی دیوی اپنے وجود پر محبت کے فخر کو سجائے ہوئے ہے اور دولت و سرمائے کے رشتے سے بندھے بے محبت ریاکار سیجوں پر سجنے والی کوئی انارکلی اپنی اذیت کو جھوٹی مسکراہٹوں سے چھپا رہی ہے. شفقت پدری کے سائے میں مستقبل کی المناکیوں سے بے خبر معصوم بچے اپنے سکولوں میں استادوں کیطرف رحم کی آرزو مند نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یکایک زمین ہلنے لگی عمارتوں نے ہچکولے کھانا شروع کر دیے خوف ایسا کہ بڑے بڑے جوانمردوں کی جوانمردی جواب دے گئی 52 سیکنڈ کے قلیل سے وقت کے بعد زمین کی اتھل پتھل ختم ہو گئی فطرت میں ایسا سکون تھا کہ جیسے ساکت ہو گئی ہو...
مگر سکوت جب ٹوٹا تو کہرام مچا تھا ممتا کی چیخیں عرش الہی کو چھو چکی تھیں بچے تھے کہ 52 سیکنڈ نے ان سے انکا مستقبل انکی ماں چھین لی تھی ماضی کے پروقار تصورات فضاؤں اور دھول میں تحلیل ہو چکے تھے فطرت کی دیوی نے محبت کی دیوی کے احساس تفاخر کو 52 سیکنڈ میں کچل دیا تھا اور بے محبت ریا کار سیجوں پر سجنے والی دوشیزہ انارکلی اپنے قید خانے کے اندر چن دی گئی تھی وہی ایک تھی کہ جس پر بے رحم فطرت نے بھی رحم کی بارش کی تھی...
ملبے کے نیچے کسی کی ٹانگیں پھنسی تھی اور اسکی چیخیں اسمانوں کو چھو رہی تھیں کہ اسکی چیخوں سے ایوان اقتدار سے ائے کچھ لوگ اس منظر کو ہیلی کاپٹر سے دیکھ رہے تھے ایسے ہی مناظر کی تاب نہ لاتے ہوئے کئی بھائی اپنی آدھ مری بہنوں کو دیکھنے کی سکت نہ رکھنے پر مظفرآباد کے دریا میں چھلانگیں لگا رہے تھے.. جن سکولوں میں زیور تعلیم بکتا تھا وہاں معصوموں کی نعشیں تھیں ابا جی کا نوحہ اور ماں کا ماتم تھا ...جن زلفوں کے اسیر ہو کر کسی نے اپنی زندگی ان زلفوں کی اسیری کے لئیے وقف کر دی تھی وہ ذلفیں سر سمیت پتھروں کے نیچے کچلی جا چکی تھیں کئی بھائیوں کو وہ احساس مار رہا تھا جو کبھی انہیں اپنے بھائی کو اپنی بانہوں میں لیکر اپنی چھاتی میں محسوس ہوتا تھا کئی بھائیوں کو بہنوں کا اور کئی بہنوں کو اپنے بھائیوں کا پتہ نہ تھا اور بدقسمتی سے کچھ بدنصیب اج بھی ایسے ہیں جن کو اج تک نہیں پتہ کہ انکے پیارے کہاں ہیں؟؟؟
پھر ایک دن گزرا ملا اپنا منجن بیچ رہا تھا اور زرپرستوں نے کفن کے نرخ بھی چڑھا دیے تھے حاکم وقت کو ترس ایا اس نے بھی اعلان کر دیا "زندگی پھر مسکرائے گی"مگر زندگی پہلے کب مسکرائی تھی جو اب مسکرائے گی ؟؟پہلے بھی جذبات روندے جاتےتھے اب بھی روندے جاتے ہیں احساس پہلے بھی قتل ہوتا تھا اج بھی سولی چڑھایا جاتا ہے محبت کل بھی ریاکار سیجوں کی زینت بنی تھی اور اج بھی زر اور سرمائے کی باندی بنی ہوئی ہے..
کل ہم اپنوں کی جدائی میں روتے تھے اج ان سکولوں کو روتے جو تب انکا قبرستان بنے تھے.مسکراہٹ تو درکنار ہونٹوں کی ذرا سی جنبش اج بھی اپکو لاپتہ افراد کی فہرست میں ڈالنے کے لئیے کافی ہے اندھیرے گھروں میں رہنے والے اج کال کوٹھڑی نما شیڈ میں رہنے پر مجبور ہیں ماں کے آنسوؤں کا سیلاب کل بھی نہ تھما تھا اور اج بھی اسمیں طغیانی ہے... لیکن یہ کیوں ہوا ؟؟زلزلہ کوئی انوکھی چیز نہیں ہے بہت سے ممالک میں فطرت کا یہ کھیل جاری ہے مگر انھیں اتنی لاشیں نہیں اٹھانی پڑتی جتنی ہم نے اٹھائی ہیں .. اپنی قبر کی تو بات ہی کیا ہے اکتوبر نے ہمیں اجتماعی قبریں بھی دکھا دی ناقص تعمیر حفاظتی انتظامات کی عدم دستیابی اور حکمرانوں کی عیاشیوں نے ہماری ایک نسل کو کھا لیا مگر سرمایہ داروں جاگیرداروں اور جرنیلوں کا کچھ نہ بگڑا..ایرا سیرا کے چکروں نے ہمارے لوگوں کے پاوءں میں چھالوں کی دنیا آباد کر دی حکمران اج بھی عیاشی کا راجہ گدھ ہے اور عوام مردار زندگی کے ساتھ متعفن گھروں میں رہنے پر مجبور.. اکتوبر کہتا ہے سیانے سچ کہتے ہیں فطرت کی تسخیر کرنی ہے تو طبقاتی صف بندی کرو اکتوبر یاد دلاتا ہے کہ 80 ہزار لوگوں کا قتل ہوا تھا ابادیاں مسمار ہوئی تھیں.اکتوبر یاد دلاتا ہے ان رشتوں کا جن کے بغیر ہم ادھورے ہیں اکتوبر لہو گرماتا ہے اس قرض کی آدائیگی کے لئیے جو ہمارے اوپر ہے ...انتقام کا قرض
انتقام ان معصوموں کا جن کو ملبے کے نیچے زندہ دفن ہونا پڑا انتقام ان رشتوں کا جو ہم سے چھین لئیے گئیے انتقام ان آنسوؤں کا جنہوں نے ماں کی بینائی چھین لی دھرتی کو پھر سے دھڑکنا ہو گا حکمرانوں کے سروں پر بجلی کو کڑکنا ہو گا یہ قتل حکمرانوں کے زمے ہے ان بربادیوں کی بنیاد حکمرانوں کے گناہ ہیں تم چاہے رب العالمین پر جتنے بہتان باندھو ہمیں قسم ہے ان پیاروں کی جو تمہارے جرائم اور عیاشیوں کی وجہ سے ہم سے چھینے گئے ہم قومی غلامی جاگیرداری اور سرمایہ داری کی قبر پر کھڑے ہو کر اپنوں کا قرض اتاریں گے اور فتح آزادی و مساوات کے گیت گائیں گے...

1 تبصرہ:

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????